Search
Tuesday 27 February 2018
  • :
  • :

حج وعمرہ کا مقصد

حج وعمرہ کا مقصد وہی ہے جو اِن کی حقیقت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف، اُس کی توحید کا اقرار اوراِس بات کی یاد دہانی کہ اسلام قبول کر کے ہم اپنے آپ کو پروردگار کی نذر کرچکے ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن کی معرفت اور دل و دماغ میں جن کے رسوخ کو قرآن نے مقامات حج کے منافع سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ سورہ حج کی جو آیت ابتدا میں نقل ہوئی ہے، اُس میں حج کے مناسک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :’لِيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ’ (تاکہ وہ اپنے لیے منفعت کی جگہوں پر حاضر ہوں)۔ یہ مقصد ذکر کے اُن الفاظ سے نہایت خوبی کے ساتھ واضح ہوتا ہے جو اِس عبادت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ اِسی مقصد کو نمایاں رکھنے اور ذہنوں میں پوری طرح راسخ کردینے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ چنانچہ احرام باندھ لینے کے بعد یہ الفاظ ہر شخص کی زبان پر مسلسل جاری رہتے ہیں:

لَبَّيْكَ، اَللّٰهمَّ لَبَّيْكَ؛ لَبَّيْكَ لَاشَرِيكَ لَكَ، لَبَّيْكَ؛ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ؛ لَاشَرِيكَ لكَ.

میں حاضر ہوں، اے اللہ، حاضر ہوں؛ حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں؛ میں حاضر ہوں،حمد تیرے لیے ہے، سب نعمتیں تیری ہیں اوربادشاہی بھی تیرے ہی لیے ہے؛ تیرا کوئی شریک نہیں۔




Leave a Reply